بھٹکل:11/نومبر (ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاعات کے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دئیے جانے کے نتیجےمیں عوام کئی دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ 2دن ہوگئے بینکوں کے اندر اور باہر عوام کا ہجوم کم ہونے کا نام نہیں لے رہاہے، بینک کا عملہ کام کرتے کرتے سست ہوگیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بینکوں میں خطیر رقومات بطور ضمانت رکھی جارہی ہیں، 2دنوں میں قریب 20کروڑ روپئے جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بھٹکل کی اسٹیٹ بینک میں ہردن 4کروڑروپئے ضمانت رکھی جارہی ہے۔ اسی طرح بھٹکل اربن بینک، کارپوریشن ، سنڈیکیٹ ، کرناٹکا بینکوں میں بھی کروڑوں روپئے بطور ضمانت رکھے گئے ہیں۔ ان سب کے دوران خاص بات یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ کے ہزاروں لوگ بینکوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ بھٹکل کی پوری مارکیٹ ٹھپ ہوگئی ہے ، ہر دوکان، ہوٹل ، ترکاری اور مچھلی مارکیٹ میں کوئی ہلچل نہیں ہے، کلی طورپر لوگوں کو یومیہ اخراجات کے لئے بھاری پریشانی ہورہی ہے۔ جمعہ کو اسٹیٹ بینک کی طرف سے تعلقہ کے تمام بینکوں کو رقم تقسیم کی گئی ہے لیکن متعلقہ رقم کسی بھی طرح سے بس نہیں ہورہی ہے۔ رقم بدلنے کے لئے قطار میں کھڑے لوگ سست ہو جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایس بی آئی کے مینجر نلیش نے کہاکہ آئندہ ایک ہفتہ میں حالات معمول پر لوٹیں گے۔ جمعہ کی شام آربی آئی کی طرف سے دیئے گئے نئے حکم مطابق کسی بھی گاہک کو 4000ہزارروپیوں سے زیادہ رقم ادا نہ کریں، جس سے عوام مزید دشواریوں میں پھنس گئے ہیں۔
2000ہزار روپئے کے نوٹ پر تذبذب:آر بی آئی کی طرف سے جاری کردہ نیا 2000ہزارروپئے کا نوٹ جمعہ کی دن بازار میں پہنچا تو عوام نے تذبذب میں نوٹ لینے سے ہی انکار کردیا۔ 2000ہزارروپئے کے نوٹ عام نوٹوں کے مقابلے میں کافی پتلا ہے،عوام کا کہنا ہے کہ یہ نوٹ بچوں کے کھیلنے کے نوٹوں جیسا ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں نے الزام لگایا ہےکہ جعلی نوٹوں کو روکنے کے لئے 500 اور 1000 ہزار روپئے کے نوٹ بند کرنے کا اعلان کرنے والی مرکزی حکومت 2000ہزارروپئے کا نوٹ بازار میں لا کر مزید رشوت خوری اور بلیک منی کو موقع فراہم کررہی ہے۔ عوام نے نیے نوٹ پر پرنٹ کیے گیے" سوچھ بھارت" پر بھی سوال اُٹھایا ہے اور نوٹ پر دیے گیے فوٹو پر بھی سوالیہ نشان لگایا ہے۔ سوالیہ نشان والا نیا نوٹ سوشیل میڈیا پربھی وایرل ہوگیا ہے ۔